بانا[2]

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - بناوٹ، بنائی۔ (شبد ساگر، 3455:7) ٢ - کپڑے کی بناوٹ جو چوڑائی یا تانے میں کی جاتی ہے؛ کپڑے کی بناوٹ میں وہ تاگا جو اڑے بل تانے میں بھرا جاتا ہے۔ "اختیار حلت و حرمت میں بانے کا ہے کیونکہ فقط تانے سے وہ کپڑا نہیں کہلاتا۔"      ( ١٨٦٧ء، نورالہدایہ (ترجمہ)، ٦٧:٤ ) ٣ - تاگا، ریشمی تاگا جو سینے اور بننے میں کام آتا ہے۔(پلیٹس)  یہ پوچھا اس پری نے پاس آ کر کہ ہے کچھ ریشمی بانا دکان پر      ( ١٨٦١ء، الف لیلہ نو منظوم، ٣٩٩:٢ ) ٧ - نقرئی یا طلائی زنجیر یا ریشمی ڈوری جو بانکے اور سپاہی پانو میں باندھتے ہیں؛ استعارۃً۔ "ایک راجپوت جوان پاؤں میں بانا ریشمی دھوتی باندھے بیٹھا تھا۔"      ( ١٨٧٧ء، طلسم گوہر بار، ٢٣ ) ٨ - ریشم کی چار قسموں میں سب سے اعلٰی قسم کا ریشم۔ "(ریشم کی) - پہلی قسم کو کورہ اور بانا بھی کہتے ہیں۔"      ( ١٨٤٥ء، مجمع الفنون (ترجمہ)، ٢١٩ ) ٩ - دھات کا چھلا جو کبوتر کے پاؤں میں ڈالتے ہیں۔ (نوراللغات، 550:1)

اشتقاق

سنسکرت زبان میں اصل لفظ 'واٹ' ہے اس سے ماخوذ اردو زبان میں 'بانا' مستعمل ہے۔ اصلی معنی میں ہی یعنی بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٢١ء میں "خالق باری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - کپڑے کی بناوٹ جو چوڑائی یا تانے میں کی جاتی ہے؛ کپڑے کی بناوٹ میں وہ تاگا جو اڑے بل تانے میں بھرا جاتا ہے۔ "اختیار حلت و حرمت میں بانے کا ہے کیونکہ فقط تانے سے وہ کپڑا نہیں کہلاتا۔"      ( ١٨٦٧ء، نورالہدایہ (ترجمہ)، ٦٧:٤ ) ٧ - نقرئی یا طلائی زنجیر یا ریشمی ڈوری جو بانکے اور سپاہی پانو میں باندھتے ہیں؛ استعارۃً۔ "ایک راجپوت جوان پاؤں میں بانا ریشمی دھوتی باندھے بیٹھا تھا۔"      ( ١٨٧٧ء، طلسم گوہر بار، ٢٣ ) ٨ - ریشم کی چار قسموں میں سب سے اعلٰی قسم کا ریشم۔ "(ریشم کی) - پہلی قسم کو کورہ اور بانا بھی کہتے ہیں۔"      ( ١٨٤٥ء، مجمع الفنون (ترجمہ)، ٢١٩ )

اصل لفظ: وین
جنس: مذکر